Showing posts with label احمد فراز. Show all posts
Showing posts with label احمد فراز. Show all posts

Tuesday, 13 March 2018

احمد فراز


رنجش ہی سہی دل ہی دُکھانے کے ليے آ
آ پھر سے مُجھے چھوڑ کے جانے کے ليے آ

پہلے سے مراسم نہ سہی، پھر بھی، کبھی تو
رسمِ رہِ دُنيا ہی نِبھانے کے ليے آ

کِس کِس کو بتائيں گے جُدائی کا سبب ہم
تُو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے ليے آ

کچھ تو مِرے پندارِ محبّت کا بَھرَم رکھ
تُو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے ليے آ

اِک عُمر سے ہُوں لذّتِ گِريہ سے بھی محرُوم
اے راحتِ جاں! مجھ کو رُلانے کے ليے آ

اب تک دلِ خوش فہْم کو تجھ سے ہيں اُميديں
يہ آخری شمعِ بھی بُجھانے کے ليے آ

مانا کہ محبّت کا چُھپانا ہے محبّت
چُپکے سے کسی روز جتانے کے لئے آ

جیسے، تجھے آتے ہیں نہ آنے کے بہانے
ایسے ہی، کسی روز نہ جانے کے لئے آ

احمد فراز